اشاعتیں

تاریخی واقعات لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

روس کی تاریخ: قدیم سلطنت سے جدید عالمی طاقت تک مکمل داستان

تصویر
  روس کی تاریخ: ایک عظیم سلطنت سے جدید طاقت تک روس دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ یہ ملک یورپ اور ایشیا دونوں براعظموں میں پھیلا ہوا ہے اور اس نے عالمی سیاست، جنگوں اور معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قدیم روس اور کییف روس کی ریاست روس کی ابتدائی تاریخ نویں صدی میں شروع ہوتی ہے جب مشرقی یورپ میں کییف روس نامی ریاست قائم ہوئی۔ یہ ریاست مختلف سلاوی قبائل اور حکمرانوں کے اتحاد سے بنی تھی اور اس کا مرکز آج کے یوکرین کے شہر کییف میں تھا۔ منگول سلطنت کا دور 13ویں صدی میں منگولوں نے روسی علاقوں پر حملہ کیا اور کئی دہائیوں تک ان علاقوں پر حکومت کی۔ اس دور کو روسی تاریخ میں منگول حکمرانی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس دور میں روسی ریاستیں کمزور ہو گئیں لیکن بعد میں آہستہ آہستہ دوبارہ مضبوط ہوئیں۔ ماسکو کی ریاست کا عروج وقت کے ساتھ ماسکو ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھرا۔ ماسکو کے حکمرانوں نے مختلف روسی علاقوں کو متحد کرنا شروع کیا اور منگول اثر کو ختم کر دیا۔ اسی دور میں روس ایک بڑی سلطنت بننے لگا۔ روسی سلطنت کا قیام 18ویں صدی میں روس نے بہت ترقی کی، خاص طور پ...

مارکو پولو: دنیا کے مشہور ویینیسی مسافر کی حیران کن کہانی

تصویر
 تعارف مارکو پولو 1254 میں وینس، اٹلی میں پیدا ہوئے۔ وہ دنیا کے مشہور مسافر اور تجارتی راہی تھے، جنہوں نے یورپ سے ایشیا تک کا لمبا سفر کیا اور اپنے تجربات کی کتاب “The Travels of Marco Polo” میں بیان کیے۔ مارکو پولو کی کہانی آج بھی لوگوں کو حیران کر دیتی ہے کیونکہ انہوں نے اس وقت کی دنیا کے مختلف ثقافتوں، حکومتوں اور تجارتی نظام کو قریب سے دیکھا۔ ابتدائی زندگی مارکو پولو ایک تاجر خاندان میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی میں ہی ان کا خاندان مشرقی تجارتی سفر پر نکلا۔ ان کے والد اور چچا پہلے سے ایشیا جا چکے تھے، اور مارکو کے ساتھ انہوں نے چین کے عظیم شہر خُان بالک کی طرف سفر شروع کیا۔ چین تک کا سفر مارکو پولو نے قراقورم سے شروع ہو کر چین کے عظیم سلطنت یوان تک کا سفر کیا، جو کوبلائی خان کے دور میں دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی۔ انہوں نے تجارت، حکومت، اور مقامی لوگوں کے طریقہ زندگی کا مشاہدہ کیا۔ مارکو پولو نے چینی ثقافت، کھانے، کپڑوں اور سیاست کی تفصیل کتاب میں لکھی۔ ان کی رپورٹ کے ذریعے یورپی لوگ پہلی بار چینی شہنشاہ کی شان و شوکت کے بارے میں جان سکے۔ واپسی اور کتاب مارکو پولو 1295 میں وینس واپ...

سلطنتِ عثمانیہ کا زوال — وجوہات اور تاریخی حقائق

تصویر
سلطنتِ عثمانیہ دنیا کی عظیم ترین اسلامی سلطنتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد 1299ء میں عثمان بن ارطغرل نے رکھی اور یہ تقریباً چھ سو سال تک قائم رہی۔ لیکن 1924ء میں خلافت کے خاتمے کے ساتھ اس کا مکمل زوال ہو گیا۔ سلطنتِ عثمانیہ کا زوال 1. اندرونی کمزوری وقت گزرنے کے ساتھ حکمرانوں کی صلاحیت کمزور ہوتی گئی۔ شاہی دربار میں سازشیں بڑھ گئیں اور انتظامی نظام متاثر ہوا۔ 2. فوجی پسماندگی یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد جدید اسلحہ اور فوجی ٹیکنالوجی آئی، مگر عثمانی فوج اصلاحات میں پیچھے رہ گئی۔ 3. معاشی بحران تجارتی راستوں کی تبدیلی اور یورپی طاقتوں کے بڑھتے اثر نے معیشت کو کمزور کیا۔ 4. قوم پرستی کی تحریکیں بلقان اور عرب علاقوں میں قوم پرستی کی لہر اٹھی جس سے سلطنت ٹکڑوں میں بٹنے لگی۔ 5. پہلی جنگِ عظیم 1914ء میں عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا۔ جنگ ہارنے کے بعد سلطنت مزید کمزور ہو گئی اور بالآخر 1924ء میں خلافت ختم کر دی گئی۔ نتیجہ سلطنتِ عثمانیہ کا زوال اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ اندرونی کمزوریوں، بیرونی دباؤ اور عالمی سیاسی تبدیلیوں کا نتیجہ تھا۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے...

لارڈ میکالے: برصغیر میں انگریزی تعلیم کے علمبردار

تصویر
 تعارف لارڈ تھامس بابنگٹن میکالے (Lord Thomas Babington Macaulay) 19ویں صدی کے برطانوی سیاستدان، مصنف اور قانون دان تھے۔ ان کا سب سے اہم کردار برصغیر میں تعلیمی اور سماجی نظام میں تبدیلی لانا تھا۔ میکالے نے انگریزی تعلیم کو فروغ دے کر ایک ایسا طبقہ تیار کرنے کی کوشش کی جو برطانوی حکومت کے لیے کام آتا۔ میکالے کا پس منظر لارڈ میکالے 1800 میں انگلینڈ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قانون اور ادب کی تعلیم حاصل کی اور جلد ہی برطانوی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1830 کی دہائی میں انہیں انڈیا میں اعلیٰ سرکاری عہدے دیے گئے، جہاں ان کا سب سے بڑا اثر تعلیمی نظام پر ہوا۔ میکالے کا نظام تعلیم (Macaulay’s Minute on Education) 1835 میں، میکالے نے Minute on Indian Education پیش کی، جس میں انہوں نے درج ذیل نکات شامل کیے: ہندوستان میں تعلیم مقامی زبانوں کے بجائے انگریزی میں دی جائے۔ مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا طبقہ پیدا ہو جو انگریزی زبان جانتا ہو اور برطانوی انتظامیہ کی زبان اور ثقافت کو سمجھے۔ اس اقدام سے برصغیر میں انگریزی زبان اور ادب کا اثر بڑھ گیا اور مقامی زبانوں پر زور کم پڑا۔ میکالے کا اثر اور تنقی...