چینی J-10C لڑاکا طیارے اور KJ-500 'فلائنگ رڈار': فضائی جنگ کا نیا رخ
تحریر: نالج ٹی وی آفیشل (Knowledge TV Official)
تاریخ: 28 مارچ، 2026
ایشیا پیسیفک کے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے درمیان، چینی فضائیہ (PLA) نے اپنے J-10C لڑاکا طیاروں کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے جدید ترین جنگی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔ ان مشقوں کی سب سے خاص بات J-10C طیاروں کا KJ-500 جیسے طاقتور 'ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول' (AEW&C) سسٹم کے ساتھ مربوط ہونا ہے۔
کیا J-10C نے اسٹیلتھ طیارے J-20 کو مار گرایا؟
اگست 2025 میں ہونے والی ایک اہم مشق کے دوران ایک حیرت انگیز رپورٹ سامنے آئی۔ بتایا گیا کہ ایک J-10C پائلٹ نے مشق کے دوران چین کے اپنے ہی پانچویں نسل کے اسٹیلتھ فائٹر J-20 کو فرضی طور پر مار گرانے میں کامیابی حاصل کی۔
یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ J-20 دنیا کے بہترین اسٹیلتھ طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس معرکے میں J-10C کے پائلٹ نے پہلے تو ہدف کو کھو دیا تھا، لیکن جیسے ہی اسے KJ-500 (جسے اڑتا ہوا رڈار بھی کہا جاتا ہے) سے ڈیٹا ملا، اس نے کامیابی سے میزائل فائر کر کے ہدف کو نشانہ بنایا۔
KJ-500: میدانِ جنگ کا 'تیسرا ہاتھ'
KJ-500 چین کا وہ طیارہ ہے جو سینکڑوں کلومیٹر دور سے دشمن کے طیاروں اور میزائلوں کا سراغ لگا سکتا ہے۔ اس کی شمولیت J-10C کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے:
اسٹیلتھ کا توڑ: KJ-500 کے بڑے اور طاقتور رڈار امریکی F-35 جیسے اسٹیلتھ طیاروں کو بھی پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
J-10C کی عالمی مارکیٹ میں اہمیت
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ J-20 کے خلاف J-10C کی یہ کامیابی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ بھی ہو سکتی ہے تاکہ عالمی سطح پر J-10C کی فروخت میں اضافہ کیا جا سکے۔ J-10C پہلے ہی کئی مشقوں میں روسی Su-35 اور چینی J-16 جیسے بھاری طیاروں کو ٹکر دے چکا ہے۔
فضائی اور زمینی دفاع کا اشتراک
مارچ 2026 کی حالیہ مشقوں میں یہ دیکھا گیا کہ J-10C صرف فضا تک محدود نہیں، بلکہ یہ زمینی دفاعی نظام (Ground-based Air Defence) کے ساتھ بھی منسلک ہے۔
ڈیٹا شیئرنگ: زمینی رڈار کم بلندی پر اڑنے والے اہداف کی نشاندہی کرتے ہیں اور J-10C کو گائیڈ کرتے ہیں۔
الیکٹرانک وارفیئر: مشکل برقی مقناطیسی حالات (Complex Electromagnetic Conditions) میں بھی یہ طیارے ایک دوسرے سے رابطہ برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
نچوڑ: کیا J-10C ایک سپر پاور فائٹر ہے؟
اگرچہ J-10C ایک انجن والا ہلکا طیارہ ہے، لیکن جدید ٹیکنالوجی اور KJ-500 کی مدد سے یہ دنیا کے کسی بھی جدید ترین طیارے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ چین اب انفرادی طیاروں کی جنگ کے بجائے "سسٹم آف سسٹم وارفیئر" (System-of-Systems Warfare) پر توجہ دے رہا ہے، جہاں ہر طیارہ، رڈار اور زمین پر موجود یونٹ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
تبصرہ کریں: کیا آپ کو لگتا ہے کہ J-10C مستقبل میں امریکی F-16 کا مقابلہ کر سکے گا؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں۔
مزید معلوماتی ویڈیوز اور بلاگز کے لیے "Knowledge TV Official" کو فالو کریں!

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"