ایران امریکہ تنازع 2026: ٹرمپ کی مشکل اور پاکستان کا 'فائر فائٹر' کردار - ایک خصوصی تجزیہ
![]() |
| Knowledge tv |
تحریر: ادارہ نالج ٹی وی آفیشل
موجودہ عالمی منظر نامے میں اگر واشنگٹن پوسٹ، وال سٹریٹ جرنل اور موساد کی بریفنگز کا نچوڑ نکالا جائے، تو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسی طشتری کی مانند نظر آتی ہے جس میں بارود اور ڈالر کی جنگ گتھم گتھا ہے۔ ایران میں حالیہ بے چینی اور معاشی بدحالی کے پیچھے "ڈالر کا قحط" پیدا کرنے کی وہ منظم کوشش نظر آتی ہے، جس کا اعتراف خود امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کانگریس کے سامنے کر چکے ہیں۔
ایران میں 'رجیم چینج' کا امریکی خواب اور ناکامی
تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، مگر اس بار 1953 کے آپریشن 'اجیکس' کی جگہ 2026 میں موساد اور امریکی سی آئی اے نے ایک نیا محاذ کھولا ہے۔ عراقی کردستان کو بیس کیمپ بنا کر ایران کے اندرونی حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی، مگر ٹرمپ کا حالیہ اعتراف کہ "کردوں نے اسلحہ خود رکھ لیا" اس مشن کی پہلی بڑی ناکامی ثابت ہوا۔
اسرائیلی قیادت (نیتن یاہو اور ڈیوڈ بارنیا) کا دعویٰ تھا کہ ایرانی عوام حکومت سے نالاں ہے اور صرف بالائی قیادت کو ہٹانے کی دیر ہے، ریاست ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔ مگر ایران نے ایک "خار پشت" (Porcupine) کی طرح خود کو سمیٹ کر ایسی مزاحمت دکھائی کہ امریکی اڈے اور خلیجی ریاستیں زخم خوردہ نظر آنے لگیں۔
پاکستان کا 'فائر فائٹر' کردار اور جنگ بندی کی سیڑھی
جب ٹرمپ کی یہ مہم جوئی عالمی معیشت کا دم گھونٹنے لگی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، تو ٹرمپ صاحب بحران کی اس چھت پر اکیلے کھڑے نظر آئے۔ ایسے میں پاکستان نے "دو ہفتوں کی جنگ بندی" کی وہ سیڑھی فراہم کی جس نے امریکہ کو ایک باعزت راستہ (Exit Strategy) فراہم کیا۔
پاکستان کو کیا ملے گا؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور پنڈی کو اس جیو پولیٹیکل امداد کے بدلے کیا ملے گا؟
سعودی عرب کا تحفظ: پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ خطرے میں تھا، جو اب محفوظ نظر آتا ہے۔
علاقائی اہمیت: پاکستان نے ثابت کر دیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پل کا کردار صرف وہی ادا کر سکتا ہے۔
معاشی و عسکری فوائد: اس 'شاباشی' کے پسِ پردہ بڑے معاشی پیکیجز اور دفاعی تعاون کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔
عالمی طاقتوں کا بدلتا ہوا توازن
اس جنگ نے جہاں امریکہ کی "لامحدود طاقت" کا بھرم توڑ دیا، وہیں روس کو اس معاشی بحران سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچا۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے اتحادی اب بیرونی چھتری کے بجائے "اندرونی سکیورٹی" پر بحث کر رہے ہیں۔
خلاصہ: ٹرمپ اب شاید اپنی ساکھ بچانے کے لیے کیوبا جیسے کسی چھوٹے ہدف کی طرف رخ کریں، لیکن ایران کی اس جنگ نے ثابت کر دیا کہ "جن کے رتبے ہیں سوا، ان کو سوا مشکل ہے"۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"