اسرائیل کا پاکستان کی ثالثی پر ردِعمل: حقیقت کیا ہے اور پروپیگنڈا کیا؟

atomic-pakistan-vs-israel-news-knowledge-tv.jpg
Knowledge tv 

 اسرائیل کا پاکستان کی ثالثی پر ردِعمل: حقیقت کیا ہے اور پروپیگنڈا کیا؟

تحریر و ترتیب: Knowledge TV Official

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران اسرائیل تنازع کے درمیان پاکستان کا سفارتی کردار عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ جہاں پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کے لیے تگ و دو کر رہا ہے، وہیں اسرائیل کی جانب سے اس پر ملے جلے اور بعض مقامات پر تیکھے ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔

اسرائیلی سفیر کا موقف: 'بھروسہ نہیں کر سکتے'

بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر رووین آزر نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل ایسے ملک پر بھروسہ نہیں کرے گا جس کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات ہی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو صرف اپنے فیصلوں اور امریکی صدر پر اعتماد ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی ایلچی فلور حسن ناہوم نے پاکستان کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان محض خود کو اہم ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ان کے خیال میں بھارت ایک بہتر ثالث ثابت ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر جعلی کلپس کا طوفان

اس اہم صورتحال میں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنے والے بھی متحرک ہو گئے ہیں۔ فلور حسن ناہوم کے انٹرویو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف بات کر رہی ہیں اور اسرائیل بھارت کو فوجی سپلائی چار گنا بڑھا رہا ہے۔

حقیقت: اسرائیلی نمائندہ نے خود انکشاف کیا کہ یہ کلپ جعلی ہے اور اس میں مصنوعی طور پر 'پاکستانی لہجہ' شامل کیا گیا تھا تاکہ اسے سچا دکھایا جا سکے، جبکہ اصل انٹرویو میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔

اسرائیلی میڈیا کا تجزیہ: نیا علاقائی اتحاد؟

اسرائیل کے معتبر اخبارات جیسے 'ہارٹز' اور 'یروشلم پوسٹ' میں اس حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے:

نیا بلاک: تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر مل کر ایک نیا علاقائی اتحاد بنا رہے ہیں جو مستقبل میں ایک فوجی فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

اسرائیل کی تنہائی:

 ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ اتحاد کامیاب ہو جاتا ہے تو خطے میں اسرائیل کی تنہائی بڑھ جائے گی اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا عمل کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔

پاک ایران تعلقات: اسرائیلی تجزیہ کار امین ایوب کا دعویٰ ہے کہ پاکستان غیر جانبدار ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن وہ عملاً تہران کو تحفظ فراہم کرنے کو ترجیح دے رہا ہے، جس کی مثال آبنائے ہرمز میں پاکستانی جہازوں کو ملنے والی رعایت ہے۔

مزید پڑھیں 👈مغربی پابندیاں ناکام: چین، روس اور ایران کا 'Axis of Evasion' اور ڈرون ٹیکنالوجی کا خفیہ نیٹ ورک 

خلاصہ

پاکستان کی حالیہ سفارتی متحرک نے اسرائیل کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف پروپیگنڈا کے ذریعے پاکستان کے کردار کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہیں زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان خطے میں ایک نئے اور طاقتور اتحاد کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار

 ادا کر رہا ہے۔

👈            ۔ واٹس ایپ پر شئیر کریں ✅          

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شاہینوں کی یلغار: رافیل اور ایف-15 کا غرور خاک میں مل گیا! 🇵🇰🇮🇷🔥

پاکستان کی تاریخی ثالثی: شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچا لیا! ٹرمپ اور ایران کا دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق، 'اسلام آباد ٹاکس' کا آغاز 🇵🇰🤝🌎

عالمی سمندروں میں ہلچل: کیا قطر ایرانی ناکہ بندی توڑنے میں کامیاب ہو جائے گا؟