پاکستانی کسانوں کی بڑی جیت: روس نے آلو کی برآمد پر لگی پابندی ختم کر دی، پنجاب سے سپلائی بحال
![]() |
| Knowledge tv |
اسلام آباد (نالج ٹی وی آفیشل):
پاکستان کے زرعی شعبے اور خاص طور پر آلو کے کاشتکاروں کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ روس نے پنجاب سے آلو کی درآمد پر لگی طویل پابندی اٹھا لی ہے، جس کا اطلاق 8 اپریل سے ہو چکا ہے۔
پابندی کیوں لگی اور کیسے ختم ہوئی؟
روس نے مئی 2025 میں پنجاب کے آلوؤں میں مبینہ طور پر بیماریوں (Pests) کی موجودگی کا عذر بنا کر پابندی عائد کی تھی۔ تاہم، پاکستان کے محکمہ تحفظِ نباتات (Department of Plant Protection) نے لیبارٹری رپورٹس کے ذریعے ثابت کیا کہ پاکستانی آلو ہر قسم کے وائرس اور بیماریوں سے پاک ہیں۔ فروری میں روسی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد اب یہ پابندی باضابطہ طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
ایران جنگ 2026 اور پاکستان: مہنگے ہتھیاروں کا دور ختم؟ دفاعی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کا وقت
برآمدات کے لیے نئی راہیں
ابتدائی طور پر روس نے پاکستان کے تین بڑے ایکسپورٹرز کو آلو بھیجنے کی اجازت دی ہے، جن میں:
چیز انٹرنیشنل (Chase International)
زاہد کنو گرائنڈنگ اینڈ ویکسنگ پلانٹ
نیشنل فروٹ
شامل ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی دیگر کمپنیوں کو بھی اس لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔
ملکی معیشت پر اثرات
پاکستان میں اس سیزن میں آلو کی ریکارڈ 12 ملین ٹن پیداوار ہوئی ہے، جس میں سے تقریباً 4 ملین ٹن آلو اضافی ہے۔ روسی مارکیٹ کھلنے سے:
آلو کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔
کسانوں کو ان کی محنت کا پورا صلہ ملے گا۔
ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔
حکومت پاکستان اب چین اور ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھی متبادل راستوں پر کام کر رہی ہے تاکہ برآمدات کے ہدف کو پورا کیا جا سکے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"