بھارت کا "پاکستان جنون": بھارتی صحافی نے مودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا— دہلی کے ایوانوں میں کھلبلی!
![]() |
| Knowledge tv |
تحریر: نالج ٹی وی آفیشل ڈیسک:
اسلام آباد/دہلی: کیا پاکستان اپنی جسامت سے بڑے مکے مار رہا ہے؟
کیا ایٹمی طاقت اور پانچویں بڑی معیشت ہونے کا دعویدار بھارت، پاکستان کے سامنے بے بس ہو چکا ہے؟ یہ سوالات کسی پاکستانی نے نہیں، بلکہ بھارت کی اپنی مایہ ناز سفارتی صحافی جیوتی ملہوترا نے اٹھائے ہیں۔
انگریزی اخبار "دی ٹریبیون" میں شائع ہونے والے اپنے حالیہ کالم "India's obsession with Pakistan" میں جیوتی نے وہ سچ لکھ دیا ہے جس نے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے سینے پر مونگ دل دی ہے۔
بھارت کی بے بسی اور پاکستان کا "عالمی قد:
جیوتی ملہوترا لکھتی ہیں کہ بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر پاکستان کو "دلال" یا "بیچولیا" (Broker) کہہ کر پکارتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ لفظ پاکستان کی توہین نہیں بلکہ بھارت کی اپنی بے بسی کا اعتراف ہے۔ بھارت جتنا مرضی چیخ لے، حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے بڑے کھلاڑی— امریکہ، ایران، چین اور سعودی عرب— سب کے پاس جانے کے لیے پاکستان کے پاس ایک ایسی "میز" موجود ہے جو بھارت کے پاس نہیں۔
اسلام آباد پراسیس: جہاں دنیا فیصلے کرتی ہے
کالم نگار حیرت کا اظہار کرتی ہیں کہ ایک طرف پاکستان معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، لیکن دوسری طرف وہی پاکستان امریکہ اور ایران جیسے کٹر دشمنوں کو ایک ہی کمرے میں بٹھا کر "ثالثی" کروا رہا ہے۔ جیوتی ملہوترا نے واضح کیا کہ جس وقت جے شنکر ابوظہبی کے دورے کر رہے ہیں، اسی وقت اسلام آباد میں "عالمی امن" کی تقدیر لکھی جا رہی ہے، جسے اب "اسلام آباد پراسیس" کا نام دیا جا رہا ہے۔
چین کا کڑوا گھونٹ اور بھارت کا تکبر:
بھارتی صحافی نے مودی سرکار کو یاد دلایا کہ عاجزی اختیار کرو۔ انہوں نے لکھا کہ بھارت چین سے تو ڈر کر تجارت جاری رکھتا ہے (حالانکہ لداخ میں بھارتی فوجی مارے گئے)، لیکن پاکستان کے معاملے میں اس نے نفرت کو پالیسی بنا لیا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ بھارت خطے کی سیاست سے "مائنس" ہو گیا اور پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھتا چلا گیا۔
فوجی قیادت اور سفارتی مہارت:
کالم میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی فوجی قیادت کے پاس وہ فن ہے جو اسے دنیا بھر میں اہم بناتا ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف کو جہاں ٹرمپ اپنا "پسندیدہ فیلڈ مارشل" کہتے ہیں، وہیں ان کے تعلقات ایرانی قیادت سے بھی اتنے ہی مضبوط ہیں۔ یہ وہ پوزیشن ہے جس کی کمی بھارت کو "تکلیف" دے رہی ہے۔
آخری سوال: کیا بھارت اس جنون سے نکل پائے گا؟
جیوتی ملہوترا کا کالم ایک بڑے سوال پر ختم ہوتا ہے: کیا بھارت کبھی پاکستان کے اس جنون سے باہر نکل پائے گا؟ اور کیا پاکستان اپنی اس سفارتی کامیابی کو اپنے غریب عوام کی بہتری کے لیے استعمال کر سکے گا؟
ایک بات تو طے ہے، پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے کا وہ کھلاڑی ہے جس کے بغیر امن کا خواب ادھورا ہے۔
نالج ٹی وی آفیشل ڈیسک کا خاص نوٹ:
یہ کالم بھارت کے لیے ایک کڑوا سچ ہے اور پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی میڈیا اس "آئینے" کو دیکھنے کے بعد کیا ردِعمل دیتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"