امریکی تاریخ کا سب سے خطرناک مشن: ایران کے اندر گھس کر امریکی پائلٹ کا معجزانہ ریسکیو!
![]() |
| Knowledge tv |
ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست جنگ کا خطرہ: کیا مشرقِ وسطیٰ میں نیا محاذ کھل گیا؟
خصوصی رپورٹ: نالج ٹی وی آفیشل
دنیا اس وقت سکتہ میں ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی حدود کے اندر ایک انتہائی جرات مندانہ اور "معجزانہ" آپریشن کر کے اپنے لاپتہ پائلٹ (ویپنز سسٹم آفیسر) کو بحفاظت نکال لیا ہے۔ یہ مشن اس وقت انجام دیا گیا جب ایران نے اس امریکی افسر کی زندہ یا مردہ تلاش پر 66 ہزار ڈالر انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔
مشن کی تفصیلات: پہاڑی شگاف، ہینڈ گن اور امریکی کمانڈوز
ذرائع کے مطابق، امریکی ایف-15 طیارے کو جنوبی ایران میں مار گرایا گیا تھا، جس کے بعد اس کا ایک افسر، جسے علامتی طور پر "شویزو" کہا جا رہا ہے، لاپتہ ہو گیا تھا۔ یہ افسر 24 گھنٹے سے زائد وقت تک ایرانی فوج کی نظروں سے بچ کر ایک پہاڑی شگاف میں چھپا رہا اور اس کے پاس دفاع کے لیے صرف ایک ہینڈ گن تھی۔
امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ان کی ہدایت پر درجنوں جدید جنگی طیارے، ہیلی کاپٹرز اور سینکڑوں کمانڈوز اس مشن پر روانہ کیے گئے۔ سی آئی اے (CIA) نے ایئرمین کا سراغ لگایا اور ایرانیوں کو دھوکہ دینے کے لیے یہ افواہ پھیلائی کہ پائلٹ پہلے ہی مل چکا ہے، تاکہ اصل ریسکیو مشن کو خفیہ رکھا جا سکے۔
امریکہ اور ایران کا آمنا سامنا: شدید فائرنگ اور نقصانات
اس ریسکیو آپریشن کے دوران امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی بمباری کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، مشن میں استعمال ہونے والے پانچ امریکی ٹرانسپورٹ طیاروں میں سے دو ایران سے اڑان بھرنے کے قابل نہ رہے، جنہیں دشمن کے ہاتھ لگنے سے بچانے کے لیے خود امریکی افواج نے تباہ کر دیا۔
علاقائی صورتحال: خلیجی ممالک پر ایرانی حملے
اس کشیدگی کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت میں بھی حملے کیے ہیں۔ کویت کی 'منا الاحمدی' ریفائنری، جو مشرقِ وسطیٰ کی بڑی ریفائنریوں میں سے ایک ہے، اسے تیسری بار نشانہ بنایا گیا، جبکہ ڈرون حملوں سے کویت میں بجلی اور پانی کے پلانٹس بھی متاثر ہوئے ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے رابطے ختم
اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے جاری تمام رابطے ختم ہو چکے ہیں۔ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ ایران کے "نیشنل انفراسٹرکچر" کو براہِ راست نشانہ بنا سکتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"