نکولا ٹیسلا: وہ جادوگر سائنسدان جسے دنیا نے جیتے جی مار دیا!

History of Nikola Tesla, the inventor of alternating current and wireless power, a special historical report by Knowledge TV.
Knowledge tv 


 نکولا ٹیسلا: وہ جادوگر سائنسدان جسے دنیا نے جیتے جی مار دیا!

ایک ادھوری ڈگری سے عالمی انقلاب تک کا سفر
نکولا ٹیسلا کی کہانی کسی افسانے سے کم نہیں۔ 1856 میں آسٹریائی سلطنت میں پیدا ہونے والے اس بچے کے ذہن میں بجلی کی کڑک دیکھ کر ایسے خیالات آتے تھے جو اس وقت کے بڑے بڑے سائنسدانوں کی سمجھ سے باہر تھے۔ 1870 کی دہائی میں اس نے انجینئرنگ شروع کی، لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے تعلیم حاصل کی، طبیعیات کی گہرائیوں کو سمجھا، لیکن کبھی ڈگری حاصل نہ کر سکا۔

والد کی وفات اور جلاوطنی کا صدمہ

ٹیسلا کی زندگی صرف ایجادات کا نام نہیں بلکہ دکھوں کی ایک طویل داستان ہے۔ جب وہ پراگ میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کر رہے تھے، تو رہائشی اجازت نامہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ملک بدر (Deport) کر دیا گیا۔ ابھی اس صدمے سے سنبھلے نہ تھے کہ 17 اپریل 1879 کو ان کے والد ملوتین کا انتقال ہو گیا۔ ٹیسلا نے اپنے گزارے کے لیے ایک اسکول میں بچوں کو پڑھانا شروع کیا، لیکن ان کا ذہن تاروں اور لہروں کی دنیا میں بھٹک رہا تھا۔

بڈاپسٹ سے امریکہ: ایڈیسن سے ٹکر

1881 میں ٹیسلا بڈاپسٹ منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے ٹیلی فون ایکسچینج میں بطور خاکہ نویس کام شروع کیا۔ اپنی ذہانت کے بلبوتے پر وہ جلد ہی چیف الیکٹریشن بن گئے۔ یہاں انہوں نے ایک ایسی چیز بنائی جسے "ٹیلی فون ایمپلیفائر" کہا جاتا ہے، مگر اسے کبھی پیٹنٹ نہ کرایا گیا۔
1884 میں ٹیسلا صرف چار سینٹ جیب میں لے کر امریکہ پہنچے تاکہ تھامس ایڈیسن کے ساتھ کام کر سکیں۔ لیکن جلد ہی دونوں کے درمیان "بجلی کی جنگ" چھڑ گئی۔ ایڈیسن DC (ڈائریکٹ کرنٹ) کے حامی تھے جبکہ ٹیسلا AC (متبادل کرنٹ) کے۔ آج آپ کے گھر میں جو بجلی آتی ہے، وہ ٹیسلا کے اسی AC سسٹم کی مرتبہ منت ہے۔

وارڈنکلف ٹاور: پوری دنیا کے لیے مفت بجلی کا خواب

ٹیسلا کا سب سے بڑا جنون وائرلیس پاور تھا۔ انہوں نے نیویارک میں وارڈنکلف ٹاور تعمیر کرنا شروع کیا تاکہ پوری دنیا کو بغیر تاروں کے مفت بجلی اور مواصلات فراہم کی جا سکیں۔ وہ کہتے تھے، "جس دن ہم یہ ٹاور مکمل کر لیں گے، زمین کا ہر کونہ روشن ہوگا اور کسی کو بجلی کا بل نہیں دینا پڑے گا۔" لیکن افسوس! سرمایہ کاروں نے جب دیکھا کہ مفت بجلی میں کوئی منافع نہیں، تو انہوں نے فنڈز روک دیے اور یہ عظیم منصوبہ ایک کھنڈر بن گیا۔

تنہائی، کبوتر اور ایک خاموش موت

ٹیسلا نے ریموٹ کنٹرول کشتی بنائی، ایکس رے پر کام کیا اور ریڈیو ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی، لیکن ان کا نام تاریخ کے صفحات سے مٹانے کی کوشش کی گئی۔ اپنی زندگی کی تمام کمائی تجربات پر لٹانے کے بعد، یہ عظیم دماغ نیویارک کے ایک سستے ہوٹل کے کمرے میں ادھار بلوں کے بوجھ تلے دب گیا۔ جنوری 1943 میں جب ان کی لاش ملی، تو ان کے پاس سوائے چند کبوتروں کے کوئی نہ تھا۔

تاریخ کا انصاف: ٹیسلا کی واپسی

دنیا نے ٹیسلا کو اس کی موت کے بعد پہچانا۔ 1960 میں مقناطیسی کثافت کی اکائی کا نام "ٹیسلا" رکھا گیا۔ آج 1990 کی دہائی کے بعد سے پوری دنیا میں ٹیسلا کو ایک ایسے ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے انسانیت کو اندھیروں سے نکالنے کے لیے اپنی پوری زندگی قربان کر دی۔

👈.                واٹس ایپ پر شئیر کریں ✅

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شاہینوں کی یلغار: رافیل اور ایف-15 کا غرور خاک میں مل گیا! 🇵🇰🇮🇷🔥

پاکستان کی تاریخی ثالثی: شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچا لیا! ٹرمپ اور ایران کا دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق، 'اسلام آباد ٹاکس' کا آغاز 🇵🇰🤝🌎

عالمی سمندروں میں ہلچل: کیا قطر ایرانی ناکہ بندی توڑنے میں کامیاب ہو جائے گا؟