کویت: امریکی ایف 15 طیارے دوستانہ فائرنگ میں تباہ"
کویت میں امریکی ایف 15 طیاروں کا حادثہ: دوستانہ فائرنگ یا ایرانی حملہ؟
کویت میں حال ہی میں تین امریکی لڑاکا طیارے دوستانہ فائرنگ کے واقعے میں تباہ ہو گئے۔ ابتدائی طور پر دنیا میں یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ شاید یہ طیارے ایرانی حملے میں تباہ ہوئے، لیکن امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے واضح کیا کہ یہ حادثہ کویت کے فضائی دفاعی نظام کی غلطی کی وجہ سے پیش آیا۔
کویت کا موقف
کویتی وزارتِ دفاع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ:
طیاروں کے عملے کو کوئی جان کا نقصان نہیں ہوا۔
عملے کو فوری طور پر طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
کویت اپنے امریکی اتحادی کے ساتھ حادثے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہا ہے۔
سینٹکام کی وضاحت
سینٹکام نے بتایا کہ حادثے میں تین ایف 15 ای سٹرائیک ایگل طیارے شامل تھے، جو ایران میں "آپریشن ایپک فیوری" کے سلسلے میں حصہ لے رہے تھے۔ لڑائی کے دوران، ایرانی جہازوں، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے مقابلے میں، کویتی فضائی دفاعی نظام نے غلطی سے امریکی طیارے مار گرائے۔
حادثے میں عملے کے چھ ارکان محفوظ رہے اور ان کی حالت مستحکم ہے۔
سینٹکام نے کویتی دفاعی فورسز کی مدد پر شکریہ بھی ادا کیا۔
ایف 15 سٹرائیک ایگل کی خصوصیات
امریکی فضائیہ کے مطابق ایف 15 سٹرائیک ایگل:
فضا سے فضا اور فضا سے زمین پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دن یا رات، ہر موسم میں مشن انجام دے سکتا ہے۔
طویل فاصلے تک دشمن کو نشانہ بنانے کے قابل ہے۔
جدید APG-70 ریڈار سسٹم سے لیس ہے، جو زمین پر موجود اہداف کو دور سے پہچانتا ہے۔
یہ طیارہ امریکی فضائیہ کے اہم اسٹریٹیجک اثاثوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے دنیا کے کسی بھی میدان جنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
خلاصہ
کویت میں امریکی طیاروں کا حادثہ ایک دوستانہ فائرنگ کا واقعہ تھا، نہ کہ ایران کی جانب سے براہِ راست حملہ۔ واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جدید فضائی دفاعی نظام میں بھی انسانی یا تکنیکی غلطیاں پیش آ سکتی ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں