افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد خطے کی جیوپولیٹکس: چین اور پاکستان کی حکمت عملی
افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد خطے میں موجود سیکیورٹی بلاک ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں جیوپولیٹکس میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ اس بدلتی صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ چین نے اٹھایا۔ عام طور پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امریکہ افغان طالبان سے لڑائی کے بعد اپنی مرضی سے افغانستان چھوڑ کر گیا، مگر جیوپولیٹکس کو سمجھنے والے ماہرین اس بات کو اس قدر سادہ نہیں سمجھتے۔
مشرقِ وسطیٰ میں شام کی مثال بھی اسی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔ شام میں رجیم چینج کے بعد ایران نواز حکومت کمزور ہوئی جس کا سب سے زیادہ فائدہ ترکیہ کو ہوا۔ اس پورے عمل میں ترکیہ کا کردار نمایاں رہا اور اس کی حمایت یافتہ قوتیں میدان میں موجود تھیں۔ اسی طرح عالمی طاقتیں براہ راست سامنے آنے کے بجائے اکثر پراکسی قوتوں کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرتی ہیں۔
افغانستان میں امریکی انخلاء کے بعد چین نے خطے میں اپنے تعلقات اور معاشی راستوں کو مضبوط کرنا شروع کیا۔ چین اور پاکستان کے قریبی تعلقات بھی اس نئی حکمت عملی کا حصہ تھے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان بھی ایک قسم کی مفاہمت موجود تھی جس کے تحت امریکہ نے اپنی پالیسی تبدیل کی۔
دوسری طرف امریکہ نے اس خطے میں بھارت کو ایک ممکنہ سیکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ اسی مقصد کے لیے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان اتحاد بھی تشکیل دیا گیا تاکہ چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے۔
ادھر چین نے بھی اپنی حکمت عملی کے تحت کمبوڈیا، میانمار، بنگلہ دیش، پاکستان اور جبوتی جیسے ممالک میں اپنے معاشی اور اسٹریٹیجک روابط کو مضبوط کیا۔ اس دوران جنوبی ایشیا کی سیاست میں بھی تبدیلیاں آئیں اور کئی ممالک نے اپنے سفارتی توازن کو نئے سرے سے ترتیب دینا شروع کیا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور طاقت کے اس نئے توازن نے پاکستان، افغانستان اور دیگر ممالک کو بھی نئی پالیسیوں پر غور کرنے پر مجبور کیا۔ افغانستان میں موجود مختلف گروہوں اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے وقت میں افغانستان اور اس کے اردگرد کے خطے میں سیکیورٹی، معاشی راہداریوں اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے درمیان مقابلہ مزید واضح ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیوپولیٹکس کی یہ نئی تبدیلیاں آنے والے برسوں میں جنوبی اور وسطی ایشیا کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں 👇
دنیا کی سب سے بڑی ایئر فورسز 2026 – طیاروں کی تعداد کے لحاظ سے ٹاپ 10 ممالک


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں