پاک افغان سرحدی کشیدگی: طالبان تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں بڑے انکشافات
فغان طالبان کے وزیرِ سرحدات ملا نور اللہ نوری کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے حالیہ پاک افغان سرحدی جھڑپوں سے متعلق اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ اس رپورٹ میں سرحدی جنگ کے دوران طالبان کو ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کا اعتراف کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاک افغان سرحد پر صورتحال طالبان کے لیے توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہوئی۔ کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی علاقوں میں تقریباً 85 فیصد پوسٹوں پر پاکستان کا کنٹرول ہے، جس کے باعث طالبان کی دفاعی پوزیشنیں کمزور نظر آتی ہیں۔
رپورٹ میں خاص طور پر صوبہ کنڑ کا حوالہ دیا گیا ہے جہاں پاکستان کی تقریباً 310 مضبوط دفاعی پوزیشنیں موجود ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں طالبان کے پاس صرف 20 چوکیوں کی موجودگی ظاہر کی گئی ہے۔ اس فرق کو سرحدی طاقت کے توازن میں ایک اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔
کمیشن کے مطابق جنگ کے دوسرے ہفتے میں طالبان کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے زمینی اور فضائی حملوں کے نتیجے میں طالبان کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ان جھڑپوں کے اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے جبکہ زخمیوں کو طبی سہولیات کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ کے آغاز میں طالبان کا پہلا حملہ اچانک تھا اور ابتدائی طور پر کامیاب بھی رہا، لیکن بعد میں افرادی قوت، گولہ بارود اور مالی وسائل کی کمی نے صورتحال کو تبدیل کر دیا۔
اسی تناظر میں کمیشن نے اپنی سفارشات میں مستقبل میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے جبری بھرتیوں کی تجویز بھی پیش کی ہے تاکہ طالبان کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ تفصیلی رپورٹ جلد ہی طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو پیش کی جائے گی، جس کے بعد سرحدی حکمتِ عملی کے حوالے سے آئندہ فیصلے متوقع ہیں۔
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"