جہادی سفارتکاری: پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کم کرنے کا نیا طریقہ
پاکستان اور افغانستان میں سرحدی کشیدگی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک طویل مسئلہ رہی ہے۔ فروری 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں نے دوبارہ یاد دلایا کہ امن قائم کرنا کس قدر مشکل ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں ایک دلچسپ رجحان سامنے آیا ہے: سابق عسکری پس منظر رکھنے والے افراد کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش۔
پاکستان کے تین سابق جہادی رہنما، مولانا فضل الرحمان خلیل، عبداللہ شاہ مظہر (مظہر سعید شاہ) اور قاری ساجد عثمان، کابل میں افغان طالبان حکام سے رابطے میں ہیں۔ یہ افراد ماضی میں عسکری سرگرمیوں میں فعال تھے، لیکن اب ان کا کردار زیادہ تر سفارتی اور ثالثی کے طور پر ہے۔
کون ہیں یہ شخصیات؟
مولانا فضل الرحمان خلیل: 1980 کی دہائی سے جہادی حلقوں میں سرگرم، سابقہ گروہ حرکت المجاہدین کے سربراہ، طالبان کے ساتھ پرانے مضبوط روابط رکھتے ہیں۔
عبداللہ شاہ مظہر: جیش محمد سے تعلق، بعد میں عسکری سرگرمیوں سے کنارہ کش، سیاست میں حصہ لیا اور ریاستی اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے۔
قاری ساجد عثمان: کراچی میں مدرسہ چلاتے ہیں، مولانا فضل الرحمان خلیل کے قریبی ساتھی، 1990 کی دہائی میں افغانستان میں فعال۔
جہادی سفارتکاری کیسے کام کرتی ہے؟
یہ افراد غیر رسمی ذرائع سے طالبان سے رابطے میں رہتے ہیں اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ عمل دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مثبت اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ سابق عسکری تجربہ اور روابط مذاکرات میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔
چیلنجز اور مستقبل
جہادی پس منظر رکھنے والے افراد کے کردار میں امکانات کے ساتھ خطرات بھی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ان کی ثالثی شفاف اور اعتماد پر مبنی ہو، تاکہ پرانی وابستگیاں یا گروہی ترجیحات امن کے عمل میں رکاوٹ نہ بنیں۔ بنیادی مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی ہے، اور یہی سب سے بڑا چیلنج ہے جسے حل کرنا ضروری ہے۔
نتیجہ
’’جہادی سفارتکاری‘‘ ایک منفرد طریقہ ہے جس میں سابق عسکری افراد غیر رسمی رابطوں کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر اسے مناسب انداز اور شفافیت کے ساتھ استعمال کیا جائے، تو یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں 👇

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"