ایران اسرائیل جنگ: شمالی کوریا کے کم جونگ اُن روپوش کیوں نہیں ہوئے؟
: نالج ٹی وی (AI Generation)"
ایران اسرائیل جنگ: شمالی کوریا کے ایٹمی عزائم اور کم جونگ اُن کا موقف
تحریر: نالج ٹی وی ویب ڈیسک
عالمی منظر نامے پر ایران اور اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی حالیہ جنگ نے جہاں پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، وہیں شمالی کوریا کے تیور بھی بدلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ شمالی کوریا نے ایران پر حملے کو ’بلاجواز جارحیت‘ قرار دے کر مذمت تو کی ہے، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے ماضی کے برعکس خود کو بنکرز میں چھپانے کے بجائے عوامی سطح پر اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے۔
ایران اور شمالی کوریا کا ’خونی اتحاد‘
ایران اور شمالی کوریا کے تعلقات 1979 سے قائم ہیں، جسے ’امریکہ مخالف فرنٹ لائن بلڈ الائنس‘ کہا جاتا ہے۔ سابق سفارت کاروں کے مطابق ایران، شمالی کوریا کے ہتھیاروں اور میزائلوں کی سب سے بڑی منڈی رہا ہے۔ تاہم، حالیہ تنازع میں تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دو اہم چیزیں شمالی کوریا کو ایران کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بناتی ہیں: جوہری ہتھیار اور چین کا ساتھ۔
ماضی کی خاموشی اور موجودہ اعتماد
یاد رہے کہ 2003 کی عراق جنگ کے دوران کم جونگ ال (سابق سربراہ) امریکی حملے کے ڈر سے 50 دن کے لیے غائب ہو گئے تھے اور بنکرز میں وقت گزارا تھا۔ لیکن آج کم جونگ اُن ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی ہلاکت جیسے بڑے واقعے کے باوجود منظرِ عام پر موجود ہیں۔ ماہرین اسے شمالی کوریا کے اپنی دفاعی طاقت اور جوہری صلاحیت پر بڑھتے ہوئے بھروسے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
شمالی کوریا کی جوہری طاقت کا رعب
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق شمالی کوریا کے پاس اس وقت 50 سے زائد جوہری وار ہیڈز موجود ہیں اور وہ مزید بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاں ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی پابندیاں اور معائنہ کاروں کی سختی رہی، وہیں شمالی کوریا 2006 سے اب تک کئی کامیاب ایٹمی تجربات کر کے خود کو ایک ایٹمی قوت کے طور پر منوا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی شمالی کوریا پر براہِ راست حملے سے کتراتے ہیں۔
چین اور روس: مضبوط ڈھال
شمالی کوریا کا جغرافیہ بھی اس کے حق میں ہے۔ اس کی سرحد چین سے ملتی ہے، اور بیجنگ اسے امریکہ کے خلاف ایک اہم رکاوٹ سمجھتا ہے۔ 1961 کے دفاعی معاہدے کے تحت چین شمالی کوریا کے تحفظ کا پابند ہے۔ دوسری جانب یوکرین جنگ نے شمالی کوریا کو روس کے مزید قریب کر دیا ہے، جس سے اسے معاشی اور فوجی تعاون حاصل ہو رہا ہے۔
خلاصہ
شمالی کوریا اس وقت ایران کے نقشِ قدم پر چلنے کے بجائے اپنی شرائط پر امریکہ سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھے ہوئے ہے۔ وہ ایران کی حمایت تو کر رہا ہے لیکن اپنی جوہری طاقت کے بل بوتے پر خود کو کسی بھی ممکنہ امریکی جارحیت سے محفوظ تصور کرتا ہے۔
شئیر کریں👈✅ واٹس ایپ پر شیئر کریں
مزید پڑھیں 👇

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"