فورٹ منرو کا "اپتار": بقا کی آخری جنگ اور ہماری ذمہ داری
Knowledge tv algeneration
تحریر: نالج ٹی وی نیوز ڈیسک)
بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ اور فورٹ منرو کے بلند و بالا مقام ہمیشہ سے نایاب جنگلی حیات کا مسکن رہے ہیں۔ انہی نایاب جانوروں میں سے ایک وہ جاندار ہے جسے مقامی بلوچی زبان میں "اپتار" (Striped Hyena/لکڑ بگھّا) کہا جاتا ہے۔ حال ہی میں فورٹ منرو کے گردونواح میں اس کی موجودگی اور مویشیوں کے شکار کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ انسانی مداخلت کے باوجود یہ جانور اب بھی اپنے قدیم مسکن میں موجود ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کب تک محفوظ رہ سکے گا؟
ایک نایاب نسل خطرے میں
"اپتار" ہمارے ایکوسسٹم کا وہ "صفائی کرنے والا" جاندار ہے جو قدرتی توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے، حالیہ برسوں میں بے جا شکار، مسکن کی تباہی اور مقامی آبادی کے ساتھ تصادم کی وجہ سے اس کی نسل تیزی سے معدومیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
بے جا شکار: شوقیہ شکاری یا محض خوف کی بنیاد پر لوگ اسے نشانہ بناتے ہیں۔
خوراک کی کمی: جنگلی شکار کی کمی کی وجہ سے یہ مجبوراً انسانی آبادیوں کا رخ کرتا ہے، جہاں اسے مار دیا جاتا ہے۔
حفاظتی اقدامات کا فقدان: اس نایاب نسل کے تحفظ کے لیے تاحال کوئی ٹھوس حکومتی پالیسی نظر نہیں آتی۔
محکمہ وائلڈ لائف کے لیے فوری تجاویز
محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دے:
حفاظتی زون کا قیام: فورٹ منرو اور ملحقہ پہاڑی علاقوں کو "پروٹیکٹڈ ایریا" قرار دیا جائے جہاں شکار پر مکمل پابندی ہو۔
معاوضے کا نظام: اگر "اپتار" کسی مقامی چرواہے کے مویشی کو نقصان پہنچاتا ہے، تو محکمہ اسے معاوضہ دے تاکہ وہ بدلے میں جانور کو قتل نہ کرے۔
آگاہی مہم: مقامی لوگوں کو بتایا جائے کہ "اپتار" ان کا دشمن نہیں بلکہ قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔
مانیٹرنگ: جدید کیمروں (Camera Traps) کے ذریعے ان کی تعداد اور نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے۔
یہ جاندار ہمارے پہاڑوں کا حسن اور ہماری زمین کی پہچان ہیں۔ اگر آج ہم نے فورٹ منرو کے اس "اپتار" کو تحفظ فراہم نہ کیا، تو اگلی نسلیں اسے صرف کہانیوں اور کتابوں میں ہی دیکھ سکیں گی۔ قدرت کے اس شاہکار کو بچانا ہم سب کی اخلاقی اور قومی تحریر: نالج ٹی وی نیوز ڈیسک)
بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ اور فورٹ منرو کے بلند و بالا مقام ہمیشہ سے نایاب جنگلی حیات کا مسکن رہے ہیں۔ انہی نایاب جانوروں میں سے ایک وہ جاندار ہے جسے مقامی بلوچی زبان میں "اپتار" (Striped Hyena/لکڑ بگھّا) کہا جاتا ہے۔ حال ہی میں فورٹ منرو کے گردونواح میں اس کی موجودگی اور مویشیوں کے شکار کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ انسانی مداخلت کے باوجود یہ جانور اب بھی اپنے قدیم مسکن میں موجود ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کب تک محفوظ رہ سکے گا؟
ایک نایاب نسل خطرے میں
"اپتار" ہمارے ایکوسسٹم کا وہ "صفائی کرنے والا" جاندار ہے جو قدرتی توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے، حالیہ برسوں میں بے جا شکار، مسکن کی تباہی اور مقامی آبادی کے ساتھ تصادم کی وجہ سے اس کی نسل تیزی سے معدومیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
بے جا شکار: شوقیہ شکاری یا محض خوف کی بنیاد پر لوگ اسے نشانہ بناتے ہیں۔
خوراک کی کمی: جنگلی شکار کی کمی کی وجہ سے یہ مجبوراً انسانی آبادیوں کا رخ کرتا ہے، جہاں اسے مار دیا جاتا ہے۔
حفاظتی اقدامات کا فقدان: اس نایاب نسل کے تحفظ کے لیے تاحال کوئی ٹھوس حکومتی پالیسی نظر نہیں آتی۔
محکمہ وائلڈ لائف کے لیے فوری تجاویز
محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دے:
حفاظتی زون کا قیام: فورٹ منرو اور ملحقہ پہاڑی علاقوں کو "پروٹیکٹڈ ایریا" قرار دیا جائے جہاں شکار پر مکمل پابندی ہو۔
معاوضے کا نظام: اگر "اپتار" کسی مقامی چرواہے کے مویشی کو نقصان پہنچاتا ہے، تو محکمہ اسے معاوضہ دے تاکہ وہ بدلے میں جانور کو قتل نہ کرے۔
آگاہی مہم: مقامی لوگوں کو بتایا جائے کہ "اپتار" ان کا دشمن نہیں بلکہ قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔
مانیٹرنگ: جدید کیمروں (Camera Traps) کے ذریعے ان کی تعداد اور نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے۔
یہ جاندار ہمارے پہاڑوں کا حسن اور ہماری زمین کی پہچان ہیں۔ اگر آج ہم نے فورٹ منرو کے اس "اپتار" کو تحفظ فراہم نہ کیا، تو اگلی نسلیں اسے صرف کہانیوں اور کتابوں میں ہی دیکھ سکیں گی۔ قدرت کے اس شاہکار کو بچانا ہم سب کی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔ ذمہ داری ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"