ایران امریکہ کشیدگی: کیا جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے؟
Knowledge tv algeneration
نیوز ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کے درمیان ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی تازہ ترین سوشل میڈیا پوسٹ میں ایران کے خلاف اپنی سخت فوجی کارروائی کی دھمکی کو عارضی طور پر مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم خطے میں صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
صدر ٹرمپ کی دھمکی اور 'ٹروتھ سوشل' کا پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 'ٹروتھ سوشل' پوسٹ میں واضح کیا ہے کہ انھوں نے ایران کے مرکزی پاور پلانٹ کو تباہ کرنے کی دھمکی فی الحال مؤخر کر دی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس شرط پر کیا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر اپنی گرفت کمزور کرے اور اس اہم عالمی آبی گزرگاہ کو جہاز رانی کے لیے کھول دے۔
مذاکرات کا دعویٰ اور ایران کی تردید
امریکی صدر کے مطابق پسِ پردہ ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز رہے ہیں اور ایران کے ساتھ ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ دوسری جانب، ایران کی وزارتِ خارجہ نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ممکنہ انسانی اور معاشی نقصان
اگر یہ حملہ ہوتا تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہ رہتے۔ ماہرین کے مطابق:
دونوں ممالک کی جانب سے توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔
بجلی گھروں کی تباہی سے ہسپتالوں، گھروں اور پینے کے پانی کے پلانٹس کو شدید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ حملے کی صورت میں وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات پر جوابی کارروائی کرے گا۔
خلاصہِ صورتحال
آبنائے ہرمز: ایران کا کہنا ہے کہ اس گزرگاہ سے گزرنے کا واحد راستہ ایران کے ساتھ ہم آہنگی ہے۔
مارکیٹ میں بے چینی: جنگ کے بادلوں کی وجہ سے ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسرائیلی کارروائی: اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے تہران کے مرکز میں فضائی حملے کیے ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"