پاکستان کی بڑی سفارتی جیت: کیا اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ رکوا پائے گا؟
![]() |
| Knowledge tv |
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی آخری امید: پاکستان کا بطور ثالث کلیدی کردار
اسلام آباد (تجزیہ: نالج ٹی وی نیوز ڈیسک)
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم کے خطرات کے سائے میں پاکستان ایک اہم ترین سفارتی کھلاڑی کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ برطانوی اخبار 'دی گارڈین' کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری خطرناک کشمکش کو ختم کرانے کے لیے "ہائی وائر ڈپلومیسی" (High-wire Diplomacy) کر رہا ہے۔
پاکستان ہی کیوں؟
بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اس وقت خطے کا وہ واحد ملک ہے جس کے تعلقات ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ متوازن ہیں۔ پاکستان میں کسی بھی ملک کے فوجی اڈے موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ایران اس پر اعتماد کرتا ہے۔ دوسری جانب، پاکستانی عسکری قیادت کے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بھی براہِ راست رابطے موجود ہیں۔
امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ؟
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی ان امن کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل کا کردار ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران کی سویلین تنصیبات اور اسٹیل پلانٹس پر اسرائیلی حملوں نے مذاکرات کے ماحول کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ جب بھی امن کی بات آگے بڑھتی ہے، اسرائیل کی جانب سے ایسی کارروائی کی جاتی ہے جو مذاکرات کو پٹری سے اتار دے۔
نیا اسلامی اتحاد: چار بڑی طاقتیں ایک ساتھ
سفارتی محاذ پر ایک اور بڑی پیش رفت ہونے جا رہی ہے۔ آج اسلام آباد میں پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات متوقع ہے۔ یہ چاروں ممالک ایک نئے 'اسلامی بلاک' کے طور پر ابھر رہے ہیں، جن کے پاس نہ صرف بڑی افواج اور ایٹمی طاقت ہے، بلکہ سعودی عرب جیسی مالی قوت بھی موجود ہے۔
جے ڈی وینس (JD Vance) پر ایران کا اعتماد
ایک حیران کن موڑ یہ ہے کہ تہران نے مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے نام پر اتفاق کیا ہے۔ ایران کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم میں جے ڈی وینس جنگ کے حوالے سے زیادہ محتاط سوچ رکھتے ہیں اور ان کے ذریعے کوئی پائیدار حل نکل سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا تنازع
مذاکرات کی میز پر سب سے بڑا مسئلہ عالمی تجارت کے لیے اہم 'آبنائے ہرمز' کا کنٹرول ہے۔ ایران اس پر اپنا حقِ ملکیت برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اسے بین الاقوامی کنٹرول میں دیکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ اس معاملے پر دونوں فریقین کو کسی درمیانی راستے پر لایا جائے۔
نتیجہ:
پاکستان کے لیے یہ سفارت کاری محض ایک کوشش نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے اور ایران کے ساتھ طویل سرحد کی وجہ سے پاکستان کسی بھی قیمت پر اس جنگ کو روکنا چاہتا ہے۔ اگر اسلام آباد اس مشن میں کامیاب ہو گیا تو یہ عالمی سطح پر پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
👈. واٹس ایپ پر شئیر کریں ✅
مزید پڑھیں 👇

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"