یوکرائن اور عرب دنیا کا تاریخی دفاعی معاہدہ: سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اربوں ڈالرز کے دفاعی پارٹنرشپ کا اعلان
![]() |
| Knowledge tv |
مشرقِ وسطیٰ میں یوکرائنی ہتھیاروں کی فیکٹریاں: 10 سالہ اسٹریٹجک دفاعی تعاون کا آغاز
اسلام آباد (نالج ٹی وی نیوز ڈیسک - 30 مارچ 2026)
یوکرائن نے مشرقِ وسطیٰ کے تین اہم ممالک سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات (UAE) کے ساتھ اربوں ڈالرز کے دفاعی معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدے نہ صرف ہتھیاروں کی خرید و فروخت تک محدود ہیں بلکہ ان میں مشترکہ پیداوار اور دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے۔
معاہدے کی اہم تفصیلات:
یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے حالیہ خطاب میں تصدیق کی ہے کہ قطر کے ساتھ 10 سالہ دفاعی پارٹنرشپ کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت:
یوکرائن اور قطر مل کر دفاعی مصنوعات تیار کریں گے۔
دونوں ممالک میں مشترکہ ہتھیاروں کی فیکٹریاں اور پروڈکشن لائنز لگائی جائیں گی۔
متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا معاہدہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
ڈیزل اور ایندھن کی فراہمی:
دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے یوکرائن کو کم از کم ایک سال تک مسلسل ڈیزل اور پیٹرول فراہم کرنے کی ضمانت دی ہے۔ یوکرائن کو اپنی دفاعی افواج اور ملکی ضروریات کے لیے ماہانہ 7 لاکھ ٹن ایندھن درکار ہے، جس کی فراہمی اب ان معاہدوں کے ذریعے یقینی بنائی جائے گی۔
اسٹنگ انٹرسیپٹر ڈرونز (Sting Interceptor Drones):
رپورٹ کے مطابق، یوکرائن کی دفاعی کمپنیاں اپنے جدید ترین "اسٹنگ" (Sting) انٹرسیپٹر ڈرونز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی ان عرب ممالک کو فراہم کریں گی۔ صدر زیلنسکی نے واضح کیا کہ ریاست ان برآمدات پر مکمل کنٹرول رکھے گی تاکہ یوکرائن کی اپنی دفاعی ضروریات متاثر نہ ہوں۔
مشرقِ وسطیٰ میں یوکرائنی ماہرین کی موجودگی:
دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرائنی ماہرین پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں جہاں وہ اپنے "انٹرسیپٹر ڈرونز" کے ذریعے ایرانی ساختہ 'شاہد' ڈرونز کو مار گرانے کا تجربہ کر چکے ہیں۔ یہ نئی پارٹنرشپ خطے میں یوکرائن کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور دفاعی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تجزیہ (نالج ٹی وی):
یہ معاہدے یوکرائن کے لیے معاشی طور پر ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوں گے، کیونکہ اسے اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ حاصل ہوگا اور ساتھ ہی عرب ممالک کو جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"