اسرائیل کا نیا لیزر ڈیفنس سسٹم 'آئرن بیم': کیا یہ میزائل حملوں کا خاتمہ کر دے گا؟
![]() |
| Knowledge tv |
نالج ٹی وی (ڈیفنس ڈیسک):
عالمی دفاعی میدان میں اس وقت اسرائیل کے نئے لیزر بیسڈ ایئر ڈیفنس سسٹم 'آئرن بیم' (Iron Beam) کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیلی دفاعی کمپنی 'رافیل' (Rafael) اس سسٹم کو جلد فعال کرنے کے لیے کوشاں
عالمی دفاعی میدان میں اس وقت اسرائیل کے نئے لیزر بیسڈ ایئر ڈیفنس سسٹم 'آئرن بیم' (Iron Beam) کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اسرائیل کی معروف دفاعی کمپنی 'رافیل' (Rafael) کے سی ای او یوو ترجمان (Yoav Turgeman) نے حال ہی میں ایک اہم انٹرویو کے دوران اس سسٹم کی خصوصیات اور اس کے آپریشنل ہونے کے حوالے سے تفصیلات جاری کی ہیں۔
آئرن بیم (Iron Beam) کیا ہے؟
یہ دنیا کا جدید ترین لیزر سسٹم ہے جو راکٹوں، مارٹر گولوں اور ڈرونز (UAVs) کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روایتی سسٹمز کے برعکس، یہ میزائل کے بجائے طاقتور لیزر شعاعوں کا استعمال کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس پر آنے والی لاگت انتہائی کم ہے۔
آپریشنل ہونے میں تاخیر کیوں؟
رافیل کے سی ای او کے مطابق، اگرچہ یہ سسٹم فضائیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، لیکن کسی بھی پیچیدہ دفاعی ٹیکنالوجی کو میدانِ جنگ میں اتارنے سے پہلے ایک مخصوص تربیتی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس کی مثال F-35 طیاروں سے دی، جنہیں حاصل کرنے کے بعد بھی آپریشنل ہونے میں وقت لگا تھا۔
رافیل کمپنی کی مالیاتی رپورٹ اور نجکاری:
رپورٹس کے مطابق سال 2025 رافیل کمپنی کے لیے ریکارڈ ساز رہا ہے:
کمپنی کے منافع میں 36.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
نئے آرڈرز کی مالیت تقریباً 10.6 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
حکومتِ اسرائیل دفاعی پیداوار پر دباؤ کے باعث کمپنی کے 49 فیصد حصص (Shares) کی نجکاری پر بھی غور کر رہی ہے، جس کی مالیت کا اندازہ 19 سے 22 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔
خلاصہ:
اس وقت خطے میں جاری کشیدگی اور حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیشِ نظر 'آئرن بیم' کی شمولیت اسرائیل کے دفاعی حصار کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ لیزر ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر فعال ہونے میں ابھی کچھ وقت درکار ہے۔
ایسے دفاعی سسٹمز کا مقصد اپنی عسکری بالادستی قائم رکھنا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتی۔ نالج ٹی وی کا مقصد اپنے قارئین کو عالمی دفاعی ٹیکنالوجی میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں سے باخبر رکھنا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"