پاکستان اور یو اے ای تعلقات: کیا ہم صرف 3.5 ارب ڈالر کا خطرہ دیکھ رہے ہیں؟

پاکستان یو اے ای معاشی تعلقات اور ترسیلات زر کا بحران - Knowledge TV Official
Knowledge tv 

تحریر: ٹیم نالج ٹی وی آفیشل

پاکستان کی معیشت کے حوالے سے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات (UAE) کو دی جانے والی 3.5 ارب ڈالر کی واپسی کی بازگشت ہر طرف سنائی دے رہی ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑا دھچکا نظر آتا ہے، لیکن اگر ہم گہرائی میں دیکھیں تو معاملہ صرف اس ایک رقم کی واپسی کا نہیں ہے۔ یہ تو صرف برفانی تودے کی ایک نوک ہے، اصل خطرات اس کے نیچے چھپے ہوئے ہیں۔

ترسیلاتِ زر (Remittances) کا اصل محاذ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہم اپنی توجہ صرف ان اربوں ڈالرز کے قرضوں پر مرکوز کر دیتے ہیں جو ہمیں واپس کرنے ہیں، جبکہ اصل خطرہ ترسیلاتِ زر (Remittances) میں چھپا ہے۔
یو اے ای سے پاکستان کو سالانہ 8 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر آتی ہیں۔

یہ رقم اس 3.5 ارب ڈالر کے قرض سے کہیں زیادہ بڑی اور اہم ہے جسے ہم واپس کر رہے ہیں۔

قرض کی واپسی ایک بار کا واقعہ ہوتا ہے، لیکن اگر ترسیلاتِ زر کے بہاؤ میں کمی آتی ہے تو یہ معیشت کے لیے ایک مستقل اور زیادہ سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔

دبئی: پاکستانی معیشت کا غیر مرئی حصہ

دبئی صرف ایک شہر نہیں رہا، بلکہ یہ پاکستان کی لیبر مارکیٹ، سروسز اکانومی اور تجارتی لین دین کا مرکز بن چکا ہے۔ ہماری معیشت کا ایک بڑا حصہ دبئی کے ساتھ اس طرح جڑا ہوا ہے کہ وہاں آنے والی ذرا سی تبدیلی یہاں براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

قرض کی معیشت یا 'کرائے کی پائیداری'؟

پاکستان کا پرانا ماڈل یہ رہا ہے کہ جب بھی ادائیگیوں کے توازن میں مشکل آئی، ہم نے دوست ممالک کے ڈیپازٹس پر انحصار کیا۔ ماہرین اسے "Renting Resilience" یعنی 'پائیداری کو کرائے پر لینا' قرار دیتے ہیں۔

جب آپ اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے دوسروں کی سیاسی خیر سگالی اور ان کے بینک ڈیپازٹس پر انحصار کرتے ہیں، تو آپ خود کو مضبوط نہیں بنا رہے ہوتے بلکہ اپنی کمزوری کو عارضی طور پر چھپا رہے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان عالمی سرمایہ کاری کا نیا مرکز: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا جرات مندانہ معاشی روڈ میپ

اصلاحات میں تاخیر کا بہانہ

بیرونی امداد اور دوست ممالک کے ڈیپازٹس نے ریاست کو ہمیشہ سخت فیصلے کرنے اور معاشی اصلاحات لانے سے روکے رکھا ہے۔ جب تک یہ 'بفر' موجود رہتے ہیں، ہم مشکل اصلاحات کو مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ یو اے ای کا حالیہ واقعہ ایک یاددہانی ہے کہ یہ بیرونی سہارے عارضی اور سیاسی حالات کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔

اس خبر کو شیئر کریں:

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شاہینوں کی یلغار: رافیل اور ایف-15 کا غرور خاک میں مل گیا! 🇵🇰🇮🇷🔥

بھارت کا "پاکستان جنون": بھارتی صحافی نے مودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا— دہلی کے ایوانوں میں کھلبلی!

روس کی اسرائیل کو آخری وارننگ: "ایٹمی تباہی کا کھیل بند کرو ورنہ نتائج سنگین ہوں گے"