پنجاب میں کم عمری کی شادی اب "بچوں پر تشدد" قرار: 7 سال قید اور بھاری جرمانے کا قانون منظور
![]() |
| Knowledge tv |
تحریر: نولج ٹی وی آفیشل :
لاہور: پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کا بل منظور کر لیا ہے۔ اب لڑکا ہو یا لڑکی، 18 سال سے کم عمر میں شادی کرنا نہ صرف غیر قانونی ہوگا بلکہ اسے "چائلڈ ابیوز" (بچوں پر تشدد) تصور کیا جائے گا۔
سزائیں اور جرمانے: قانون اب پہلے سے زیادہ سخت
نئے بل کے مطابق، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کڑی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا:
قید کی سزا: کم عمری کی شادی کروانے پر 5 سے 7 سال تک کی سخت قید ہو سکتی ہے۔
بھاری جرمانہ: اس جرم کے مرتکب افراد پر کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
گارڈین (سرپرست) کی ذمہ داری: اگر کوئی والدین یا سرپرست جان بوجھ کر کم عمری کی شادی کو فروغ دیتے ہیں یا اسے روکنے میں ناکام رہتے ہیں، تو انہیں 2 سے 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
عدالتی کارروائی اور فوری فیصلے
حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ان کیسز میں انصاف میں تاخیر نہ ہو:
یہ تمام جرائم ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ سمجھوتہ قرار دیے گئے ہیں۔
کیسز کی سماعت سیشن کورٹ میں ہوگی۔
عدالت پابند ہوگی کہ کیس کا فیصلہ 90 دنوں کے اندر اندر سنائے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"