پاکستان نیوی کا بڑا معرکہ: مقامی سطح پر تیار کردہ اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ
![]() |
| Knowledge tv |
تحریر:نولج ٹی وی آفیشل ویب ڈیسک
تاریخ: 18 اپریل 2026:
پاکستان کی بحری حدود کا دفاع اب مزید ناقابل تسخیر ہو گیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان نیوی نے اپنی آپریشنل صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے مقامی طور پر تیار کردہ اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ سنگ میل نہ صرف پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے بلکہ دفاعی شعبے میں "میڈ ان پاکستان" کے عزم کی ایک بہترین مثال بھی ہے۔
تجربے کی تفصیلات اور میزائل کی خصوصیات
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق، یہ میزائل جہاز سے فائر کیا گیا جس نے انتہائی تیز رفتاری اور طویل فاصلے سے اپنے ہدف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ اس میزائل کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
جدید ترین گائیڈنس سسٹم: یہ میزائل جدید گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے جو اسے ہدف تک درست رسائی فراہم کرتا ہے۔
دشمن کے دفاع سے بچنے کی صلاحیت: اپنی بہترین چستی (Manoeuvrability) کی بدولت یہ میزائل دشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
تباہ کن وار ہیڈ:
یہ میزائل سمندر میں متحرک اہداف کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
نیول چیف اور ملکی قیادت کا ردعمل:
نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے اس کامیاب تجربے کا خود مشاہدہ کیا اور سائنسدانوں و انجینئرز کی انتھک محنت کو سراہا۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم اور سروسز چیفس نے بھی اس کامیابی پر قوم اور پاک بحریہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے خطے میں بحری استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
"یہ تجربہ پاکستان نیوی کے اس عزم کا عکاس ہے کہ ہم اپنی بحری حدود کے دفاع اور سمندری تجارتی راستوں (SLOCs) کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔" — ایڈمرل نوید اشرف
جدت کی جانب بڑھتے قدم: پی این ایس خیبر کی شمولیت
یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں ہی پاکستان نیوی نے اپنی بیڑے میں دوسرے ملجم کلاس کارویٹ (PNS KHAIBAR) کو شامل کیا تھا۔ یہ نئی شمولیتیں اور کامیاب میزائل تجربات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان اپنی بحری طاقت کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔
خلاصہ
پاکستان ایک ایسی سٹرٹیجک لوکیشن پر واقع ہے جہاں سے عالمی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایسے میں مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجی کا استعمال نہ صرف دفاعی بجٹ پر بوجھ کم کرتا ہے بلکہ کسی بھی بیرونی امداد کے بغیر ملک کو اپنے دفاع کے قابل بناتا ہے۔
آپ کو کیا لگتا ہے؟ کیا پاکستان کو دفاعی شعبے میں مزید مقامی ٹیکنالوجی پر کام کرنا چاہیے؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"