ایران امریکہ جنگ: کیا پاکستانی سفارت کاری نے بھارت کو عالمی تنہائی کا شکار کر دیا؟ جے شنکر کا غصہ اور اندرونی کہانی
![]() |
| Knowledge tv |
نیوز ڈیسک (نالج ٹی وی):
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے ہی اسلام آباد نے عالمی سفارتی بساط پر ایسی چال چلی ہے جس نے نئی دہلی میں کھلبلی مچا دی ہے۔ پاکستان اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے، جس پر بھارتی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
پاکستان کا 15 نکاتی امن منصوبہ
ذرائع کے مطابق پاکستان نے غیر معمولی پھرتی دکھاتے ہوئے امریکہ کا 15 نکاتی امن منصوبہ ایران تک پہنچایا اور مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی۔ اگرچہ تہران نے فی الحال اسے مسترد کیا ہے، لیکن پاکستانی وزیر خارجہ کا فوری طور پر بیجنگ روانہ ہونا اور وہاں 5 نکاتی فارمولے پر چینی حمایت حاصل کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اس وقت "ڈرائیونگ سیٹ" پر ہے۔
بھارت میں صفِ ماتم اور جے شنکر کا ردِعمل
پاکستان کی اس سفارتی کامیابی نے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے بھارتی سفارت کاری کے لیے "شرمندگی" قرار دیا ہے۔ دفاعی ماہر برہما چیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بیانیے کی جنگ میں بھارت کو پچھاڑ دیا ہے۔
اسرائیل کا پاکستان کی ثالثی پر ردِعمل: حقیقت کیا ہے اور پروپیگنڈا کیا؟
دوسری جانب، بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنی روایتی تلخی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کو "دلالی" سے تشبیہ دی ہے۔ بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسی کسی ثالثی کا حصہ نہیں بننا چاہتے، تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ "انگور کھٹے ہیں" والا معاملہ ہے کیونکہ امریکہ نے اس اہم مشن کے لیے بھارت کے بجائے پاکستان پر اعتماد کیا۔
واشنگٹن نے اسلام آباد کو ہی کیوں چنا؟
ماہرین کے مطابق اس کی دو بڑی وجوہات ہیں:
جغرافیائی رسائی: پاکستان واحد ملک ہے جس کے ایران اور خلیجی ممالک، دونوں کے ساتھ کام کرنے والے تعلقات ہیں۔
دفاعی لیوریج: سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک اپنی سیکیورٹی کے لیے پاکستانی فوج کو ایک اہم ڈھال مانتے ہیں۔ یہ وہ فوجی اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ ہے جو بھارت کے پاس اس خطے میں موجود نہیں ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"