ایران اسرائیل جنگ: پاکستان کا گیس بحران سنگین، سستی بجلی اور ایل این جی سپلائی ٹھپ!
![]() |
| Knowledge tv |
آنے والا موسم گرما اور لوڈشیڈنگ کا خطرہ: ماہرین کی تشویشناک پیش گوئی
سولر پینلز کی بھرمار اور گیس کا سابقہ سرپلس: اب صورتحال الٹ کیوں ہوئی؟
اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش اور قطر انرجی کا 'فورس میجر' کا اعلان
ایران جنگ اور پاکستان کا گیس بحران: سرپلس سے قلت تک کا خطرناک سفر
اسلام آباد: سال 2026 کے آغاز میں پاکستان کے پاس ضرورت سے زیادہ ایل این جی (LNG) موجود تھی، لیکن ایران اور اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی اچانک جنگ نے چند ہی دنوں میں ملک کو بدترین توانائی کے بحران کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔
خوشحالی سے بحران تک: ایک اچانک موڑ
فروری 2026 تک پاکستان کی صورتحال یہ تھی کہ گیس کے ذخائر اتنے زیادہ تھے کہ حکومت اضافی شپمنٹس دوسرے ممالک کو بیچ رہی تھی۔ سولر پینلز کی ریکارڈ فروخت (تقریباً 34 گیگا واٹ) کی وجہ سے گیس سے بننے والی بجلی کی طلب 11 فیصد گر چکی تھی۔ لیکن 28 فروری کو ہونے والے "آپریشن ایپک فیوری" (Epic Fury) نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔
قطر انرجی پر حملہ اور عالمی منڈی میں ہلچل
جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی 2 مارچ کو قطر کی "راس لفان" انڈسٹریل سٹی پر ڈرون حملوں نے عالمی معیشت کی بنیادیں ہلا دیں۔ قطر، جو پاکستان کو 99 فیصد ایل این جی فراہم کرتا ہے، نے "فورس میجر" (Force Majeure) کا اعلان کرتے ہوئے گیس کی فراہمی روک دی۔
تیل کی قیمتوں کا عالمی دھماکہ: پاکستان میں پیٹرول 458 روپے سے متجاوز، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کا بحران کیا ہے؟
قیمتوں میں اضافہ: برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
پاکستان پر اثر: فروری میں جس گیس کی قیمت 10.47 ڈالر تھی، وہ مارچ کے وسط تک 12.49 ڈالر تک پہنچ گئی، یعنی ایک ماہ میں 19 فیصد اضافہ۔
اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش اور سپلائی لائن کا خاتمہ
پاکستان اپنی ایل این جی کے لیے مکمل طور پر قطر اور متحدہ عرب امارات پر منحصر ہے۔ اسٹریٹ آف ہرمز، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد گیس گزرتی ہے، جنگی حالات کی وجہ سے تقریباً بند ہو چکی ہے۔ مارچ کے مہینے میں جہاں 12 جہاز آنے تھے، وہاں صرف 2 پہنچ پائے۔ اپریل کی تمام شپمنٹس اب خطرے میں ہیں۔
گھریلو گیس اور ایل پی جی کا سنگین مسئلہ
پاکستان صرف ایل این جی ہی نہیں بلکہ اپنی 60 فیصد ایل پی جی (LPG) بھی ایران سے درآمد کرتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے یہ سپلائی لائن بھی متاثر ہوئی ہے، جس کا براہ راست اثر ان دیہی علاقوں پر پڑے گا جہاں پائپ لائن کی گیس موجود نہیں ہے۔
موسم گرما کی تپش اور لوڈشیڈنگ کا سائیہ
ماہرین توانائی کے مطابق، پاکستان کے گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ اس وقت 3.3 ٹریلین روپے (تقریباً 11 ارب ڈالر) تک پہنچ چکا ہے۔ گیس کی کمی کی وجہ سے بجلی گھروں کو چلانا مشکل ہو رہا ہے۔
ممکنہ حل: حکومت مقامی گیس کے کنویں دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ طلب پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔
لوڈشیڈنگ: آنے والے گرم مہینوں میں روزانہ 2 سے 3 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا قوی امکان ہے، کیونکہ فرنس آئل کی قیمتیں بھی دگنی ہو چکی ہیں۔
نتیجہ: پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ
پاکستان کی توانائی کی منصوبہ بندی طویل مدتی اور سخت معاہدوں میں جکڑی ہوئی ہے جس میں لچک کی کمی ہے۔ الجزیرہ کی اس رپورٹ کے مطابق، اب پاکستان کے پاس واحد راستہ "بجلی کی بچت" اور "منصوبہ بند لوڈشیڈنگ" ہی بچا ہے۔ وہ صنعتیں جو گیس پر چلتی ہیں، ان کی پیداوار میں تعطل آنے سے معیشت کو مزید دھچکا لگ سکتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"