امریکی ریسکیو مشن کی اندرونی کہانی: ریت میں پھنسے جہاز اور اسرائیلی مدد کا انکشاف!
![]() |
| Knowledge tv |
خصوصی رپورٹ: نالج ٹی وی آفیشل
ایران میں مار گرائے گئے امریکی ایف-15 طیارے کے دوسرے پائلٹ (ویپنز سسٹم آفیسر) کو نکالنے کا مشن کسی ہالی ووڈ فلم سے کم ثابت نہیں ہوا۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مشن کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب امریکی فورسز کو اپنے ہی دو دیو ہیکل طیارے بموں سے اڑانے پڑ گئے۔
پائلٹ کی بیہوشی اور 12 کلومیٹر کا سفر
رپورٹ کے مطابق، جب طیارہ گرا تو پائلٹ پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر اترتے ہی سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے بیہوش ہو گیا تھا۔ ہوش آنے پر وہ اپنی گرفتاری سے بچنے کے لیے ایران کی بلند ترین پہاڑی چوٹی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ شدید زخمی حالت میں اس نے تقریباً 12 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا اور ایک پہاڑی شگاف میں چھپ کر اپنی لوکیشن امریکی فورسز کو بھیجی۔
مشن میں اسرائیلی کردار: تضاد یا حقیقت؟
اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے نہ صرف پائلٹ کی صحیح جگہ بتائی بلکہ فضا میں امریکی برتری قائم رکھنے کے لیے ایرانی اہداف پر حملے بھی کیے۔ تاہم، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے صرف عام معلومات فراہم کی تھیں۔ اس تضاد نے عالمی میڈیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی تاریخ کا سب سے خطرناک مشن: ایران کے اندر گھس کر امریکی پائلٹ کا معجزانہ ریسکیو!
ریت میں پھنسے طیارے اور "ریل ڈرامہ"
مشن کے دوران امریکی کمانڈوز نے ایران کے اندر ایک زرعی کھیت یا چھوٹے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا۔ وہاں دو امریکی سی-130 (C-130) طیارے اور 'لٹل برڈ' ہیلی کاپٹرز اترے۔ مشن تو کامیاب رہا اور پائلٹ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے طیارے تک پہنچا دیا گیا، لیکن واپسی پر "حقیقی ڈرامہ" اس وقت شروع ہوا جب دونوں سی-130 طیارے ریت میں دھنس گئے اور اڑان بھرنے میں ناکام رہے۔
اپنے ہی جہازوں کی تباہی
وقت کی کمی اور ایرانی فوج کے پہنچنے کے ڈر سے، امریکی فضائیہ نے اپنے ہی ریت میں پھنسے ہوئے طیاروں کو بمباری کر کے تباہ کر دیا تاکہ وہ ایران کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ 90 کمانڈوز اور ریسکیو ٹیم کو تین چھوٹے طیاروں کے ذریعے وہاں سے نکالا گیا۔ یہی وہ طیارے ہیں جن کا ملبہ بعد میں ایرانی میڈیا نے اپنی کامیابی کے طور پر دکھایا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"