بیجنگ مذاکرات کی اندرونی کہانی: کیا چین کی ضمانت پر پاک-افغان بارڈر مستقل کھلنے والا ہے؟ کسانوں اور بیوپاریوں کے لیے بڑی خوشخبری!
![]() |
| Knowledge tv |
- نیوز ڈیسک: نالج ٹی وی
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے حالیہ سہ فریقی مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک ایسی بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے اثرات نہ صرف خطے کی سیکیورٹی بلکہ براہِ راست عام آدمی کی جیب پر پڑیں گے۔ ان مذاکرات کی سب سے حساس اور اہم کڑی دہشت گردی کے خلاف وہ "تحریری ضمانت" ہے جس کا مطالبہ پاکستان طویل عرصے سے کر رہا تھا۔
ٹی ٹی پی اور دہشت گردی: بیجنگ مذاکرات کی کڑی شرائط
باوثوق ذرائع اور سینیئر صحافی سمیع یوسفزئی کے مطابق، بیجنگ مذاکرات میں پاکستان نے اپنا موقف انتہائی سختی سے پیش کیا کہ جب تک افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کے حملے بند نہیں ہوتے، سرحدوں پر تناؤ برقرار رہے گا۔
مذاکرات کی اہم ترین شرائط درج ذیل ہیں:
تحریری یقین دہانی: افغان طالبان نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ ایک باقاعدہ تحریری دستاویز فراہم کریں گے جس میں اس بات کا عہد کیا جائے گا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان یا کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
چین بطور ضامن (Guarantor): ان مذاکرات کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ چین نے اس پورے عمل میں "گارنٹر" بننے پر اتفاق کیا ہے۔ یعنی اگر کوئی فریق وعدے سے مکرتا ہے تو چین اس میں مداخلت کرے گا۔
دہشت گردوں کے خلاف کارروائی: پاکستان نے سرحد پار موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ دہرایا ہے، جس پر افغان حکام نے مثبت اشارے دیے ہیں۔
امن کا ثمر: پاک-افغان بارڈر اور تجارت کی بحالی
جب سیکیورٹی کے ان معاملات پر برف پگھلے گی، تو اس کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کی معیشت اور کسان کو ہوگا۔ پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سیکیورٹی تحفظات دور ہونے کی صورت میں طورخم اور چمن سمیت تمام تجارتی گزرگاہیں مستقل بنیادوں پر کھلی رکھی جائیں گی۔
پنجاب کے کسانوں کے لیے "لاٹری": آلو اور چاول کی چاندی
سیکیورٹی ڈیل کا سب سے بڑا معجزہ پنجاب کی منڈیوں میں دیکھنے کو ملے گا۔ اس وقت پاکستان میں آلو کا کاشتکار شدید پریشان ہے کیونکہ:
قیمتوں کا فرق: پاکستان میں آلو کا ریٹ محض 10 روپے کلو تک گر چکا ہے، جبکہ سرحد پار افغانستان اور وسطی ایشیا میں اس کی قیمتیں کئی گنا زیادہ ہیں۔
گاڑی کے ریٹ میں دھماکہ خیز اضافہ: ماہرین کے مطابق، بارڈر کھلنے سے پہلے جو 10 ویلر گاڑی محض 50 ہزار روپے کی بک رہی تھی، ایکسپورٹ شروع ہوتے ہی اس کی قیمت 5 سے 7 لاکھ روپے تک جا سکتی ہے۔
وسطی ایشیا تک رسائی:
یہ صرف افغانستان تک محدود نہیں بلکہ ازبکستان اور تاجکستان کی منڈیوں کا راستہ بھی کھل جائے گا، جہاں پاکستانی چاول اور آلو کی شدید طلب ہے۔
ایران امریکہ جنگ: کیا پاکستانی سفارت کاری نے بھارت کو عالمی تنہائی کا شکار کر دیا؟ جے شنکر کا غصہ اور اندرونی کہانی
نتیجہ: کیا کسانوں کے دن پھرنے والے ہیں؟
بیجنگ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اب افغان طالبان کے اس "تحریری وعدے" پر ہے جو انہوں نے چین کی موجودگی میں کیا ہے۔ اگر سرحدوں پر امن قائم ہوتا ہے تو کسان جو فی گاڑی ڈھائی سے تین لاکھ روپے نقصان اٹھا رہا ہے، نہ صرف وہ نقصان پورا کر سکے گا بلکہ لاکھوں روپے منافع بھی کما سکے گا۔ نالج ٹی وی اس صورتحال پر گہری
نظر رکھے ہوئے ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"