اسلام آباد مذاکرات: مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر کا فیصلہ اور پاکستان کا کلیدی کردار
![]() |
| Knowledge tv |
اسلام آباد (نالج ٹی وی آفیشل):
برطانیہ کے معتبر اخبار 'دی گارڈین' نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکہ پر بھروسہ کرنے کے بجائے ایک نئی حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں، جس میں پاکستان کا کردار سب سے اہم ہو کر ابھرا ہے۔
اسلام آباد: عالمی سفارت کاری کا نیا محور
آج جمعہ سے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان وہ تاریخی مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں جن پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ان مذاکرات کا سب سے کٹھن مرحلہ 'آبنائے ہرمز' کا مستقبل ہے۔ ایران اس اہم سمندری گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے پر بضد ہے، جبکہ خلیجی ممالک کو ڈر ہے کہ ایران جب چاہے ان کی شہ رگ (تجارت) کو دبا سکتا ہے۔
ایران امریکہ تنازع 2026: ٹرمپ کی مشکل اور پاکستان کا 'فائر فائٹر' کردار - ایک خصوصی تجزیہ
خلیجی ممالک کی سیکیورٹی میں بڑی تبدیلی
گارڈین کے مطابق، حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی نے خلیجی ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر) کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ صرف امریکی اڈوں پر انحصار کرنا کافی نہیں، کیونکہ یہ اڈے انہیں ایران کے جوابی حملوں کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔
رپورٹ کے اہم نکات:
پاکستان اور ترکی کا کردار: خلیجی ممالک اب پاکستان اور ترکی جیسی بڑی فوجی قوتوں کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
سعودی-پاک دفاعی معاہدہ: سعودی عرب نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ ایک اہم دفاعی معاہدہ کیا ہے جو خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا موقف: متحدہ عرب امارات نے ایران کو 'عوامی دشمن نمبر 1' قرار دیتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو 24 گھنٹے الرٹ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
"Step" اتحاد: کیا یہ مسلم نیٹو ہے؟
رپورٹ میں ایک نئے ابھرتے ہوئے اتحاد 'Step' کا تذکرہ کیا گیا ہے جس میں سعودی عرب، ترکی، مصر اور پاکستان شامل ہیں۔ اگرچہ اسے "مسلم نیٹو" کہنا قبل از وقت ہے، لیکن یہ چاروں ممالک مل کر مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کا ایک ایسا ڈھانچہ کھڑا کر سکتے ہیں جو امریکہ یا کسی اور بیرونی طاقت کا محتاج نہ ہو۔
پاکستان کے لیے معاشی اور سیاسی اہمیت
ان مذاکرات کی میزبانی نہ صرف پاکستان کا سفارتی وقار بلند کر رہی ہے بلکہ سعودی عرب اور یو اے ای جیسے ممالک کے ساتھ مضبوط دفاعی تعلقات پاکستان کے لیے زرمبادلہ اور معاشی استحکام کا ذریعہ بھی بنیں گے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"