امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ فضائی دفاع: 92 فیصد حملے ناکام بنانے کا دعویٰ
Knowledge tv algeneration
نیوز ڈیسک: اسرائیلی فوج (IDF) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مل کر بنائے گئے جدید ترین دفاعی نظام نے دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے میں 92 فیصد کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ مشترکہ آپریشن جدید ترین ٹیکنالوجی اور ریئل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ کا نتیجہ ہے۔
دفاع کی چار تہوں والا 'فولادی حصار'
اسرائیلی اور امریکی ماہرین نے مل کر ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جو فضا کی مختلف بلندیوں پر حملوں کو روکتا ہے:
ایرو 3 (Arrow 3): خلا کی حدود میں میزائلوں کو روکنے کے لیے۔
ایرو 2 اور تھاڈ (THAAD): زیادہ بلندی پر آنے والے بڑے خطرات کے لیے۔
ڈیوڈز سلنگ (David’s Sling): درمیانی بلندی کے میزائلوں کے لیے۔
آئرن ڈوم (Iron Dome): کم بلندی پر آنے والے چھوٹے راکٹوں اور ڈرونز کے لیے۔
آپریشنل ہم آہنگی اور امریکی تعاون
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اور امریکی اہلکار مشترکہ کمانڈ سینٹرز میں بیٹھ کر ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یہ محض علامتی تعاون نہیں ہے بلکہ دونوں ممالک کے سسٹم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ردِعمل کا وقت (Response Time) بہت کم ہو گیا ہے۔
جانی نقصان اور چیلنجز
کامیاب دفاع کے باوجود، آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ حالیہ حملوں میں کلسٹر بموں کے استعمال سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں رمات گان میں ایک معمر جوڑا جاں بحق ہوا جبکہ دیمونا اور عراد میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
مستقبل کی حکمتِ عملی
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے 20 سالوں کی مشترکہ ٹریننگ اور ٹیکنالوجی کی ترقی آج کام آ رہی ہے۔ اس دفاعی نظام کا مقصد صرف میزائل گرانا نہیں بلکہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو کم سے کم نقصان پہنچنے دینا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"