موساد کا نیا 'ماسٹر مائنڈ' اور ایران کی تباہی کا مشن: نیتن یاہو کے قریبی ساتھی کا وہ خفیہ منصوبہ جو بے نقاب ہو گیا
![]() |
| Knowledge tv |
تحریر: نالج ٹی وی آفیشل ڈیسک
تل ابیب/تہران: عالمی جاسوسی کی دنیا میں ایک بڑا زلزلہ آ گیا ہے! اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے سب سے وفادار اور "جارح مزاج" فوجی مشیر رومن گوفمین (Roman Gofman) کو دنیا کی خطرناک ترین خفیہ ایجنسی 'موساد' کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ لیکن یہ صرف ایک تقرری نہیں، بلکہ ایران کے خلاف ایک باقاعدہ "اعلانِ جنگ" سمجھا جا رہا ہے۔
ایران کا تختہ الٹنے کا 'جنونی' منصوبہ
ذرائع کے مطابق، رومن گوفمین وہ شخص ہیں جنہوں نے نیتن یاہو کو قائل کیا تھا کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ ہی وہاں کی حکومت کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔ گوفمین کا ماننا ہے کہ اگر ایران کی قیادت پر کاری ضرب لگائی جائے، تو وہاں کا نظام تاش کے پتوں کی طرح بکھر سکتا ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جس نے حالیہ مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کو آگ کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔
موساد کے ناکام وعدے اور 40 دن کی جنگ
سی این این (CNN) کی ایک حالیہ رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا ہے، جس کے مطابق موساد نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران میں بغاوت کروا کر حکومت گرا دیں گے، لیکن 40 دن کی شدید لڑائی اور حملوں کے باوجود تہران میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ بلکہ اب ایران میں پہلے سے بھی زیادہ سخت گیر قیادت سامنے آ رہی ہے، جو اسرائیل کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔
کون ہے یہ نیا 'اسپائی ماسٹر'؟
رومن گوفمین محض ایک فوجی افسر نہیں، بلکہ نیتن یاہو کا وہ وفادار ہے جو 7 اکتوبر کے حملوں میں شدید زخمی ہوا تھا۔ روسی زبان پر عبور رکھنے کی وجہ سے وہ نیتن یاہو اور روسی صدر پیوٹن کے درمیان ایک "خفیہ پل" کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔ اسرائیل کے اندرونی حلقوں میں تنقید کی جا رہی ہے کہ گوفمین کو تجربے کی بنیاد پر نہیں بلکہ نیتن یاہو سے "وفاداری" کی بنیاد پر لایا گیا ہے۔
بڑی تبدیلیاں اور نیتن یاہو کی چال
7 اکتوبر کی ناکامی کے بعد اسرائیل کی پوری سکیورٹی قیادت مستعفی ہو چکی ہے یا نکالی جا رہی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اپنے گرد ایسے لوگوں کا حصار بنا رہے ہیں جو ان کے ہر حکم پر عمل کریں، چاہے اس کے نتیجے میں تیسری عالمی جنگ ہی کیوں نہ چھڑ جائے۔
نتیجہ: کیا مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ ہونے والی ہے؟
گوفمین کی جون میں موساد کی کمان سنبھالنے کی خبر نے تہران سے واشنگٹن تک خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ نیتن یاہو کا یہ "آخری مہرہ" کیا واقعی ایران کا نظام گرا پائے گا یا یہ اسرائیل کی ایک اور بڑی تزویراتی غلطی ثابت ہوگی؟

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"