ٹرمپ کا بڑا ایکشن: لبنان میں جنگ بندی نافذ، نیتن یاہو کو بڑا فیصلہ ماننے پر مجبور کر دیا

ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے ہیں، لیکن ان کے ہاتھ ایک بھاری زنجیر اور تالے سے جڑے ہوئے ہیں۔
Knowledge tv 

تحریر: نالج ٹی وی ویب ڈیسک

تاریخ: 18 اپریل 2026

عالمی سیاست میں ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی طاقت کا لوہا منوا لیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان، صدر ٹرمپ نے لبنان میں جنگ بندی کا اعلان کر کے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری خونریز لڑائی کو روک دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، جو اب تک جنگ جاری رکھنے پر بضد تھے، انہیں بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا۔

ٹرمپ کا 'دسویں جنگ' ختم کرنے کا دعویٰ:

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے مخصوص انداز میں اعلان کیا کہ وہ اب تک دنیا بھر میں 9 جنگیں رکوا چکے ہیں اور لبنان میں یہ جنگ بندی ان کی 'دسویں فتح' ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد لبنان میں جنگ بندی کا آغاز ہو گیا، جس کے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف نقل مکانی کرنے والے شہری اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے ہیں۔

نیتن یاہو کی مجبوری یا حکمتِ عملی؟

سی این این کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس جنگ بندی کو 'اپنے دوست صدر ٹرمپ کی درخواست' قرار دے کر قبول کیا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
ماضی کا تسلسل: یہ پانچواں موقع ہے جب صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو اپنی مرضی کے فیصلے پر مجبور کیا ہے۔ اس سے قبل ایران کے ساتھ کشیدگی اور قطر سے معافی مانگنے کے معاملے پر بھی ٹرمپ نے اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا تھا۔

ادھوری جیت: 

اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ وہ حزب اللہ کو مکمل ختم کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا، لیکن ٹرمپ کے دباؤ نے اس 'فیصلہ کن فتح' کے خواب کو ادھورا چھوڑ دیا ہے۔

ٹرمپ کی سخت وارننگ: 

"اب بمباری نہیں ہوگی!"
جب نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ "ہمارے ایک ہاتھ میں ہتھیار اور دوسرے میں امن ہے" اور اسرائیل ضرورت پڑنے پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے، تو صدر ٹرمپ نے فوری ردعمل دیا۔ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا:
"اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا۔ امریکہ کی طرف سے اس پر سخت پابندی ہے۔ اب بہت ہو چکا!"

مشرقِ وسطیٰ کی نئی صورتحال:

اگرچہ لبنان میں 10 روزہ عارضی جنگ بندی ہوئی ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ اسے مستقل امن میں بدلنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب ایران کے حوالے سے بھی صورتحال بدل رہی ہے، جہاں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے منصب سنبھال لیا ہے۔
پاکستان اور عالمی برادری اس پیش رفت کو غور سے دیکھ رہی ہے کہ کیا ٹرمپ واقعی مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن لا پائیں گے یا یہ محض ایک عارضی خاموشی ہے؟

اس خبر کو شیئر کریں:

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

شاہینوں کی یلغار: رافیل اور ایف-15 کا غرور خاک میں مل گیا! 🇵🇰🇮🇷🔥

🌏 بساط پلٹ گئی: کنگ فیصل ایئربیس پاکستان کے حوالے، اسرائیل کے ایوانوں میں صفِ ماتم!

بھارت کا "پاکستان جنون": بھارتی صحافی نے مودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا— دہلی کے ایوانوں میں کھلبلی!