ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی کشیدگی: خطے میں نئی صورتحال
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر سیاسی اور عسکری کشیدگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں تناؤ بڑھ رہا ہے اور اس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی بعض رپورٹس کے مطابق امارات ایران سے منسلک کمپنیوں اور مالیاتی نیٹ ورکس کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایران بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے مختلف ممالک میں موجود کمپنیوں اور مالیاتی چینلز کا استعمال کرتا رہا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات ایسی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے جن پر ایران سے مالی تعلقات کا شبہ ہے۔ اگر ایسا اقدام کیا جاتا ہے تو یہ ایران کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف عراق کی خاتون اول شہناز ابراہیم احمد نے بھی ایک بیان میں کردوں کے حوالے سے اہم بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ کرد قوم کو کئی مرتبہ علاقائی اور عالمی سیاست میں استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی کردوں کو مختلف وعدے کیے گئے مگر مشکل وقت میں انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا۔ ...