نیا خطرناک فون فراڈ: صرف چند منٹ میں آپ کی شناخت چوری ہو سکتی ہے
رپورٹس کے مطابق بعض فراڈی عوامی مقامات جیسے شاپنگ مالز، میٹرو اسٹیشنز اور بازاروں میں لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ افراد عام طور پر اچھے لباس میں ہوتے ہیں اور خود کو بے بس یا مدد کے محتاج ظاہر کرتے ہیں۔
فراڈ کیسے کیا جاتا ہے؟
فراڈی عموماً کسی راہ گیر سے کہتے ہیں کہ انہیں موبائل فون استعمال کرنا نہیں آتا یا انہیں اپنی پنشن یا سبسڈی چیک کرنی ہے۔ وہ درخواست کرتے ہیں کہ کوئی شخص چند لمحوں کے لیے ان کے فون کو چلا دے۔
لیکن اصل خطرہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کوئی شخص مدد کے لیے فون ہاتھ میں لے لیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بعض صورتوں میں فون پہلے ہی ویڈیو کال یا اسکرین ریکارڈنگ پر ہوتا ہے۔ اس طرح دوسری طرف موجود افراد اس شخص کے چہرے، آواز اور حرکات کو ریکارڈ کر سکتے ہیں۔
بایومیٹرک معلومات کیسے چوری ہو سکتی ہیں؟
جدید مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کسی شخص کی تین اہم بایومیٹرک معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں:
فنگر پرنٹ (فون کو چھونے سے)
آواز (اونچی آواز میں نمبر یا کوڈ پڑھنے سے)
چہرہ (کیمرے کے سامنے بات کرنے سے)
اگر یہ معلومات کسی کے ہاتھ لگ جائیں تو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس شخص کی ڈیجیٹل نقل بنائی جا سکتی ہے۔
اس کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسی معلومات کا غلط استعمال کرتے ہوئے فراڈی مختلف مالیاتی سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں، جیسے:
آن لائن قرض کی درخواست
ڈیجیٹل فنانسنگ
مالی اکاؤنٹس تک رسائی کی کوشش
اسی لیے ماہرین شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہیں۔
خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟
اپنی حفاظت کے لیے چند آسان اصول یاد رکھیں:
کسی اجنبی کا موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کریں۔
نامعلوم ویڈیو کال آنے پر فوراً کال بند کر دیں۔
کسی بھی اجنبی کے کہنے پر ویریفکیشن کوڈ یا ذاتی معلومات نہ پڑھیں۔
عوامی مقامات پر موبائل استعمال کرتے وقت محتاط رہیں۔
نتیجہ
ٹیکنالوجی کے دور میں سائبر جرائم کے طریقے بھی مسلسل بدل رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر نئی معلومات سے آگاہ رہیں اور اپنی ذاتی معلومات کی حفاظت کریں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
مہربانی کر کے offensive یا غیر اخلاقی زبان استعمال نہ کریں۔ آپ کے تبصرے سب کے لیے قابلِ دیکھنے ہوں گے۔"